Urdu Soft Books - Top Nevigation

Abnormal Nafsiyat by Efraeem Rozan

Thursday, July 31, 2014


Abnormal Nafsiyat by Efraeem Rozan



Download or Read online Urdu pdf book Abnormal Nafsiyat by Efraeem Rozan and translation in urdu by Zakia Mushhadi . This Urdu Book about Abnormal Nafsiyat. Irregular brain research is the extension of brain science that studies curious examples of conduct, feeling and thought, which could possibly be seen as encouraging a mental issue. Albeit numerous practices could be considered as anomalous, this extension of brain research by and large arrangements with conduct in a clinical setting. There is a long history of endeavors to comprehend and control conduct considered to be abnormal or degenerate (measurably, ethically or in some other sense), and there is frequently social variety in the methodology taken. The field of anomalous brain research distinguishes numerous foundations for distinctive conditions, utilizing various hypotheses from the general field of brain research and somewhere else, regardless much relies on what precisely is implied by "strange". There has generally been a separation in the middle of mental and biotic clarifications, reflecting a philosophical dualism concerning the psyche body issue. There have likewise been distinctive methodologies in attempting to arrange mental issue. Strange incorporates three separate classifications, they are subnormal, supernormal and paranormal.


OR


Sachi Kahanian July 2014

Wednesday, July 30, 2014

Sachi Kahanian July 2014
Sachi Kahanian Digest July 2014 Free Download, Read Online
Sachi Kahanian July 2014 is available in Pdf file. That can be Download for free. This Digest contains suspense stories and some true stories.Thank you for visiting urdunovelist.blogspot.com. Visit the below mentioned link to read online and download Sachi Kahanian July 2014 in Pdf format for offline reading.


35 MB

Khofnak Digest July 2014

Khofnak Digest July 2014
Khofnak Digest July 2014 PDF Free Download and Read online Free
Khofnak Digest July 2014 horror stories. Short horror stories and some real horror stories. Also some true horror stories. Thank you for visiting urdunovelist.blogspot.com. Visit the below mentioned link to read online and download Khofnak Digest July 2014 2014 in Pdf format for offline reading.


30 MB

Ubqari Magazine August 2014

Ubqari Magazine August 2014
Free Download Monthly Urdu Ubqari Magazine August 2014 Urdu Risalay pdf and read online
Urdu Magazine Ubqari August 2014 free pdf Download and read online free book. Ubqari Magazine August 2014 is amazing "Roohani Magazine" published from Lahore. Hakeem Muhammad Tariq Mehmood Chughtai is the editor of Ubqari Magazine. Read online free Ubqari Magazine August 2014 which is full of Islami Roohani and Hakeemi tips for men and women of all age of groups.

18 MB

باؤلا

 ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔

موصوف کی یہ سطور پڑھ رہا تھا تو مجھے سود کی حمایت کرنے والوں کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ نے جو کیفیات بتائی ہیں‘ یاد آ رہی تھیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں‘ ان کا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا (پاگل) کر دیا ہو‘ اور اس حالت میں ان کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’تجارت بھی تو آخر سود جیسی چیز ہے‘‘۔ کس قدر سچا ہے میرا رب جو ایسے دانشوروں کی ذہنی کیفیت اور دلوں میں چھپے اسلام کے نظام کے ساتھ بغض و عناد کو جانتا ہے۔ کتنی صادق آتی ہے یہ آیت ان سطور پر جو موصوف نے اپنے کالم میں تحریر کی ہیں۔


چلیں چھوڑیں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کو کہ ان میں حکمت وہ لوگ تلاش کرتے ہیں جن کی آنکھیں مغرب کی روشنی سے چندھیا نہ گئی ہوں۔ ان کے آئیڈیل اور قابل تعریف سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔


اس شہر کے لوگ ان بینکوں میں ان لٹیروں کی دولت کا حساب رکھتے ہیں‘ تحفظ کرتے ہیں اور بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں‘ عیش کی زندگی گزارتے ہیں۔ زیورچ اور سوئس بینکوں کی یہ روایت تین سو سال پرانی ہے۔ فرانس کے بادشاہوں کو اپنے عوام سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کی ضرورت تھی اس لیے 1713ء میں The Great Council of Geneva نے رازداری کا قانون ’’Code of Seerecy‘‘ متعارف کرایا جس کے تحت بینکار کھاتے کی رقم صرف کھاتے دار کو بتاتا ہے کسی دوسرے کو اس کی اطلاع نہیں دیتا۔
اس کے بعد انقلاب فرانس آیا تو وہ سب سیاستدان‘ وڈیرے‘ نواب جنھوں نے عوام کا سرمایہ لوٹا تھا بھاگ کر یہاں آ گئے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے ان بینکوں کے کاروبار کا آغاز ہوا۔ یہ لوگ اسقدر ظالم ہیں کہ جس وقت 1930ء کا عالمی معاشی بحران آیا‘ دنیا کی حکومتیں اپنے لوٹے ہوئے پیسے کے بارے میں معلومات چاہتی تھیں تا کہ جوپیسہ عوام سے لوٹا گیا ہے ان کو واپس لوٹایا جا سکے تو سوئزر لینڈ نے 1934 Banking Actمنظور کیا اور دنیا کے غریبوں کو ان چوروں‘ لٹیروں‘ اور ڈاکوئوں کے نام اور ان کا سرمایہ بتانے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب جنگ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو اس وقت تک سوئزر لینڈ ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھی جانے لگی تھی جو اپنے ملکوں کا سرمایہ لوٹ کر وہاں لے جائیں۔ اسے اس زمانے میں ’’Repository of capital for unstable countries‘‘(غیر مستحکم ملکوں کے سرمایے کی جنت )کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں یہودیوں پر ظلم و ستم کا آغاز ہو چکا تھا۔ ہولوکاسٹ تھا‘ ان کا قتل عام ہو رہا تھا۔ یہودیوں نے اپنی حکومتوں کے خوف سے اپنا سرمایہ اور سونا ان سوئس بینکوں میں جمع کروانا شروع کیا۔
سونا ان رقوم میں صرف چار ارب ڈالر کا تھا۔ان ظالم بینکاروں نے مرنے والے یا قید ہونے والے یہودیوں کے کاغذات کو آہستہ آہستہ جلانا شروع کر دیا۔ دوسری جانب سوئزر لینڈ وہ واحد ملک تھا جس نے نازی ظلم سے بھاگنے والے یہودیوں پر اپنی سرحدیں بند کر دیں۔ جرمن یہودیوں کے پاسپورٹوں پر ’’J‘‘ کا لفظ لکھتے تھے اور اس پاسپورٹ کو دیکھ کر سوئزر لینڈ کی سرحد سے انھیں واپس دھکیل دیا جاتا تھاتاکہ یہ دولت واپس نہ مانگ لیں۔
جرمن آرکائیوز کے مطابق 1944 میں جرمن وزیر داخلہ ہیزرچ ہملرHeinrich Himler نے سونے اور زیورات سے لدی ہوئی ایک ٹرین سوئزر لینڈ کے بینکوں کو بھجوائی تاکہ ناگہانی کیفیت میں جنگ میں اسلحہ کی خریداری کے لیے کام آ سکے۔ جنگ ختم ہوئی اور 1946 میں پیرس معاہدہ Paris Agreement وجود میں آیا جس کی وجہ سے اس سونے پر ان بینکوں اور عالمی اتحادی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ ان بینکوں کو ملا۔ یہودی اپنی طاقت اور بالادستی کے باوجود ان سود خور بینکوں سے اپنی دولت نہ لے سکے۔ بددیانتی کے اس کاروبار نے سوئزر لینڈ اور موصوف کالم نگار کی جنت زیورچ کو سرمایہ فراہم کیا۔
آج بھی سوئزر لینڈ کے بینکوں میں 80 فیصد رقوم تین ذرایع سے آتی ہیں۔ -1 دوسرے ملک سے ٹیکس چوری کا پیسہ جن میں یورپ اور امریکا جیسے ممالک بھی شامل ہیں‘-2 غیر ترقی یافتہ ممالک کے آمروں اور حکمرانوں کا کرپشن اور لوٹ مار کا سرمایہ اور -3دنیا کے بڑے بڑے مافیاز کے جرائم سے حاصل کردہ سرمایہ۔ یہ ہیں وہ تین بنیادی ذرایع جو اس ’’جنت نظیر‘‘ علاقے کی آمدن اور ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ہے سوئزر لینڈ کا بزنس ماڈل۔ چند سال پہلے تک ٹیکس چوری سوئزر لینڈ میں جرم نہیں تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جب جرمن محکمہ Deutsche post کے سربراہ Klaus Zumwinkle کے بارے میں جرمن حکام نے کرپشن کی تحقیقات کا آغاز کیا تو سوئزر لینڈ نے کسی بھی قسم کے تعاون سے انکار کر دیا۔ان بینکوں کا سوئزر لینڈ کی سیاست پر اسقدر اثر ہے کہ اس ملک کے سیاست دان بینکاری کے غلیظ دھندے کی وجہ سے دنیا سے الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں ۔اسی لیے وہ یورپی یونین کا حصہ بننے سے انکار کرتے رہے۔ دنیا کا ہر چور‘ بددیانت‘ قاتل‘ ڈاکو‘ ظالم حکمران اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے ان بینکوں کو پناہ گاہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیر خزانہ Jerome cahuzac کا بھی یہاں ایک خفیہ اکائونٹ ہے۔
فلپائن کا مارکوس‘ چلی کا آلندے‘ ایران کا رضا شاہ‘ پاکستان کا زرداری اور افریقہ کے آمروں کی لوٹی ہوئی رقوم ان بینکوں کے کاروبار کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس سارے سرمائے کا بدترین اور انسانیت دشمن استعمال یہ ہے کہ یہ سب کے سب بینک اس وقت دنیا بھر میں خوراک کی تجارت اور ذخیرہ اندوزی پر سرمایہ لگاتے ہیں۔ ملکوں سے خوراک خریدتے ہیں اور پھر ان کا ذخیرہ کر کے مہنگے داموں پر لوگوں کو بیچتے ہیں‘ جس کے نتیجے میں اس وقت دنیا میں ایک ارب مرد‘ عورتیں اور بچے قحط اور بھوک کا شکار ہیں۔
یہ قاتل اور انسانیت دشمن بینک اپنے سرمائے سے کھاتے داروں کو سود ادا کرتے ہیں اور سوئزر لینڈ کے عوام کو شاندار سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ پورا معاشرہ ڈاکوئوں‘ چوروں‘ آمروں‘ ڈکٹیٹروں اور انسانیت دشمن افراد کا ملازم ہے۔ ان کی فی کس آمدنی دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور کیوں نہ ہو ڈاکوئوں‘ چوروں اور پیشہ ور قاتلوں کے کارندے سرمائے میں نہاتے ہیں۔
یہ ہے وہ جنت جس کی تعریف مذکورہ کالم نگار نے کی ہے۔ لیکن میرے اللہ نے ایسے افراد کی کیفیت کے بارے میں کیا خوب ارشاد فرمایا تھا جو ان شہروں میں چند دن گزار کر متاثر ہو جاتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے ’’دنیا کے شہروں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کا خوشحالی سے چلنا پھرنا تمہیں ہر گز دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ تو تھوڑا سا لطف اور مزہ ہے جو یہ لوگ اڑا رہے ہیں پھر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بدترین جائے قرار ہے (آل عمران 197)۔ کون ہے جو شہروں کی چہل پہل سے متاثر ہو کر بدترین جائے قرار کو منتخب کرلے۔ 


oria maqbool jjan article on sood
swiss bank ,money

کس منہ سے کہیں تم سے، تمہیں عید مبارک

Tuesday, July 29, 2014


 کئی عیدوں سے یہ سلسلہ چل رہا ہے کہ تقریباًہر عید الفطر پر ہمارے اہلِ وطن اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ آج ہم عید منائیں یا اپنے پختون بھائیوں کو منائیں؟خیر یہ قصہ اور یہ قضیہ تو شاید ہمیشہ ہی چلتارہے گا۔ ابھی ابھی کسی نے (ہمارے کان پر) یہ نعرہ بھی مارا ہے کہ ۔۔۔جب تک صوبہ ’خیبر پختون خوا‘ رہے گا تب تک دو،دو چاند رہیں گے۔۔۔ (اور دو،دو عیدیں)۔۔۔ اگر مختلف ’قومیتوں‘ کے مطالبات پرملک میں کچھ زیادہ صوبے بن گئے تو کیا عجب کہ وطن عزیز پاکستان میں۔۔۔ہر روز، روزِ عید ہو، ہر شب، شبِ برات۔
سنتے آئے ہیں کہ عید کی سچی خوشی اُنھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جنھوں نے رمضان بھر روزے رکھے، تراویح کی تمام نمازیں ادا کیں اورنمازِ عید سے پہلے پہلے اپنے اوپر واجب الادا صدقۂ فطر ادا کردیا۔ جو یہ سب کچھ نہ کرے کیا خاک اُس کی عید ہے؟ مسلمانوں کی زندگی کے غم ہوں یا خوشیاں سب کے سب کسی نہ کسی انداز میں’ عبادت‘ سے عبارت ہیں۔سو، رمضان کی عبادات کی کامیابی سے تکمیل کی خوشی منانے کا طریقہ یہ ٹھہرا کہ فرزندانِ توحید مارے خوشی کے عیدکے دن دو رکعت نماز زیادہ پڑھ آئے، ساتھ زائد چھہ تکبیروں کے۔
 

یہ تو ہوئیں عید کی حقیقی خوشیاں منانے والوں کی باتیں۔ مگر ہمارے یہاں عید کی مصنوعی خوشیاں منانے والے بھی بہت ہیں۔ عید کے دن ایسی بہت سی ’مصنوعات‘ کی آپ کو ہمارے ٹی وی چینلوں پر بھرمار نظر آئے گی۔عیدکے نام پر از سحر تابہ سحر مسلسل نشر ہونے والے اِن مصنوعی پروگراموں میں نہ رمضان کا ذکر آئے گا نہ روزے کا۔ سحری کی بات ہوگی نہ افطاری کی۔ تراویح کا تذکرہ ملے گا نہ جشنِ نزولِ قرآن کا۔ روزے کی مشق سے پیدا ہونے والے صبر اور ضبطِ نفس کی صفات کا جائزہ لیا جائے گا نہ خیراور خیرات میں سبقت لے جانے کا۔ ان سے کون پوچھے کہ تمھاری عید ہے کس بات کی عید؟ رمضان گزر جانے کی عید؟ کہ جس پر’جشن عید‘ مناتے ہوئے ٹھمکے پرٹھمکا لگا لگا کر اِس عزم کا اظہاراوراعلان کیا جائے گا کہ:
ایسی چال میں چلوں کلیجا ہِل جائے گا
کسی کی جان جائے گی، کسی کا دِل جائے گا
 

عید کی سب سے زیادہ خوشیاں مناتے ہوئے اور ناچتے گاتے ہوئے آپ کو وہی لوگ نظر آئیں گے ، جنھیں کچھ رمضان سے سروکار تھا نہ روزے سے۔مگر ناچنے دیجیے اُنھیں۔ کیوں کہ اگر آپ انھیں عید کی خوشی میں ناچنے نہیں دیں گے تو یہ مارے غصے کے اور ناچنے لگیں گے کہ اِس ملک میں ہمیں ناچنے بھی نہیں دیا جاتا وھاٹ اے کنٹری؟ کسی کو ناچنے نہ دینا اُس کی ’ آزادئ اظہار‘ سلب کرلینے کے مترادف ہے۔
’کنٹری‘ کا ذکر آیاتواِس پر ہمیں یاد آیاکہ لوگ کہتے ہیں۔۔۔’عید کی سچی خوشی تو دوستوں کی دید ہے‘۔۔۔مگر ہم نے دوست بھی امریکا جیسے’بے دید‘ پالے ہوئے ہیں۔کہ جس کی دوستی کے طفیل ہمارا ’کنٹری‘ نہ صرف مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتا ہے بلکہ ہماری قوم اور ہماری قوم کے سجیلے جوانوں کو بھی دہشت گردوں کے حملوں کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ جن سپوتوں کو اس قوم نے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر اس لیے پالاتھا کہ وہ اﷲ، اُس کے رسولؐ اور ملکِ خداداد کے دشمنوں پر اﷲ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے، اگر اُن میں جہاد کی جگہ جمود اور سکتہ و سکوت پیدا ہوجائے، وہ اﷲ اور اُس کے رسولؐ کا کلمہ پڑھنے والے مسلمان بھائیوں پر اﷲکے دشمن یہودیو ں کو ظلم ڈھاتے ہوئے دیکھیں اور نہ صرف ٹکر ٹکر دیکھیں بلکہ اُن کے ’صفِ اول کے اتحادی‘ بھی بن جائیں تو اﷲ اُن کی ہوا اِسی طرح اُکھاڑ دیتا ہے کہ اُن کو اپنی، اپنے دفتروں کی اور اپنی چھاؤنیوں کی بھی حفاظت کی فکرپڑ جائے۔ وہ دوسروں کی جان تو کیا بچائیں گے؟ اپنی جان بچانے کے لیے دیواریں بنائیں گے۔ رُکاوٹیں کھڑی اور سڑکیں بند کریں گے۔سن 2012ء کی وہ عید الفطر یہ قوم کیسے بھول سکتی ہے جب باقی پاکستان کی عید سے فقط دو دِن قبل شمالی وزیرستان میں عید منائی جارہی تھی تو امریکا نے ڈرون حملے کرکے بروزِ عید 12پاکستانی سپاہی شہید کردیے تھے۔یہ تھا ہمارے اتحادی اور ہمارے دوست امریکا کا’تحفۂ عید‘۔امریکی صدر اوباما صاحب ایک طرف تو امریکی عوام کی طرف سے ہمیں اور ہمارے وزیر اعظم کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں، دوسری طرف عید کے دن کے لیے، پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان کے مسلمان شہریوں اور ہمارے نوجوان سپاہیوں کی کم عمر بیواؤں اوراُن کے ننھے منے بچوں کو آہوں، آنسوؤں اور دِل پاش پاش کردینے والے غموں کے تحفے بھی مسلسل مل رہے ہیں۔ہر عید پر ہماری سوگوار قوم اور اِن سانحات سے سوگوار ہوجانے والے خاندانوں پر اقبالؔ کا یہ شعرصادق آتاہے کہ:
پیامِ عیش و مسرت ہمیں سناتا ہے
ہلالِ عید ہماری ہنسی اُڑاتا ہے
 

ہماری عیدیں تواب ’شکوہِ ملک و دیں‘ بننے کی بجائے صرف ’ہجومِ مومنیں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔ایسے میں ہم قوم کو عید کی مبارک باد کیسے دیں؟
  عید کے دِن نمازِ عید کے جو پُر ہجوم اجتماعات ہوں گے، اُن کی تصویریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔خطیب حضرات یومِ عید کے فضائل و مناقب گِنوا گِنوا کر اسلام کی شان بیان کریں گے اور بڑے جوش وخروش سے بیان کریں گے۔ اُنھیں اِس ملک میں بس ’بیان‘ کرنے ہی کی اجازت ہے،اسلام کی شان بیان کرنے کی۔اسلام کی شان دکھانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں۔ پھر بھی:
ملا کو جو ہے ’عید کے‘ سجدے کی اجازت
’لیڈر‘ یہ سمجھتا ہے کہ اِسلام ہے آزاد
 

اسلام تو اسلام، ہمیں تویہ آزادی بھی نصیب نہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اپنی زبان میں تعلیم دے سکیں۔اپنی قومی زبان کواپنے ملک کی سرکاری زبان بنا سکیں یا کم ازکم اس کی عملی کوشش ہی کرسکیں۔یاصدیوں سے اپنے دین کی تعلیم و تعلم میں مصروف دینی مدارس کو امریکا کے قرار دینے پر ’دہشت گردی‘ کے مراکز مان کر اُن پرنفرین بھیجنے کی بجائے دُنیا سے اُن کا تقدس اور اُن کی اہمیت تسلیم کرواسکیں ۔ یہ مثالی تعلیمی ادارے ملک کے مفلوک الحال بچوں میں نہ صرف خیر کثیر عطا کرنے والے علم کی دولت مفت تقسیم کرتے ہیں، بلکہ اُنھیں مفت رہائش اور مفت خوراک بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے حکمران ایسا کریں تو کیسے کریں؟یہ حکام نہیں ’محکوم‘ ہیں، اور محکوم بھی طاغوت کے۔ اُنھیں اِن کاموں کی آزادی نصیب نہیں۔غنیمت ہے کہ اِس قدر محکوم قوم کو ابھی تک پُر ہجوم نمازِ عید ادا کرنے کی آزادی میسر ہے۔ مگر اقبالؔ ؒ نے کچھ غلط تو نہیں کہاتھا کہ:
عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عیدِ محکوماں ہجومِ مومنیں
 

عید کے موقع پر۔۔۔ہرسال آپ پڑھتے ہی ہیں کہ۔۔۔ ہماری قوم کے (محکوم) حکمران بھی (اپنے ہی) دانت نکال نکال کر امریکی صدر کی طرح خود بھی قوم کو عیدکی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور خود بھی عید کی مبارک باد کے ساتھ ساتھ عید کے موقع پرقوم کو کمرتوڑ مہنگائی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ بے پناہ کرپشن اور لوٹ کھسوٹ سے قوم میں پیدا ہونے والی بے چینی اور مایوسی کا ’تحفۂ عید‘پیش کرتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ اور اِس کے نتیجہ میں ٹھپ ہوجانے والے صنعتی اداروں کے مزدوروں کو بے روزگاری کا ’تحفۂ عید‘ پیش کرتے ہیں۔ پھر ان تحفوں پر مستزاد بجلی کے نرخوں میں مزید اضافے کا ’تحفۂ عیدبھی پیش کردیا جاتاہے۔ جب کہ اِن’ تحفوں‘ پر بندھے ہوئے ربن کے طورپر منہ زبانی ’عیدمبارک‘ کا ’تحفۂ عید‘ قوم کوپہلے ہی موصول ہو چکا ہوتا ہے۔اے صاحبو! کس منہ سے کہیں تم سے، تمھیں عید مبارک! 

ابو نثر  

Taleem O Tarbiat July 2014

Taleem O Tarbiat July 2014
Read Online Taleem o Tarbiat Magazine July 2014 Free Download PDF
Taleem O Tarbiat is a kids's Urdu language magazine published by Zaheer Salam of Ferozsons from Lahore, Punjab, Pakistan. This is the oldest magazine of kids and I also like this magazine. Taleem o Tarbiat Magazine July 2014 Edition Online. Monthly Taleem o Tarbiayt Magazine July 2014 contains useful articles, Islamic education, Islamic manners and moral stories just for kids in Urdu language. Taleem o Tarbiyat is very useful monthly magazine for children to buildup their character and provide them an excellent Islamic and moral materiel. Thank you for visiting urdunovelist.blogspot.com. Visit the below mentioned link to read online and download Taleem O Tarbiyat July 2014 in Pdf format for offline reading.

14 MB
Read Online Below

Chef Magazine July 2014

Chef Magazine July 2014
Monthly Chef Magazine July 2014 Pdf Free Download and Read Online
Download free online books, read online Pakistani monthly Urdu food Monthly Chef Magazine July 2014 in pdf. Click the link below to download and also read online below.


Jasoos Kaise Banta Hai By Tariq Ismail Sagar

Jasoos Kaise Banta Hai By Tariq Ismail Sagar

Jasoos kaise banta hai pdf book composed by Tariq Ismail Sagar who is renowned for well-known Urdu essayist in Pakistan particularly for undercover work writer and he has composed different books and novel on this theme. This Urdu book "Jasoos Kaisey Banta hai" is likewise a magnum opus of him. In this Urdu book he has talked about surveillance in Urdu dialect, Agents and Handlers, sorts of activity operators, the recruitment of executors/spy, executor and case officer, mystery works, about promulgation and numerous other comparative intriguing themes are described in Urdu dialect. The creator has likewise depicted about the American CIA and the Israeli Mossad. As indicated by the creator, reconnaissance is a sort of science. Reconnaissance and spy fiction his most loved theme and he has additionally composed numerous books on mystery orgs of the world. In this book scholar additionally talked about American top-mystery org CIA furthermore said insights about Israeli org Mossad. You can read additionally more spy and undercover work books which are composed by Tariq Ismail Sagar a many pdf books are  available for download here.


OR



Naey Ufaq Digest August 2014

Naey Ufaq Digest August 2014
Naey Ufaq Digest August 2014 Pdf Free Download and read online
Naye Ufaq Digest August 2014 new edition online. Monthly Naye Ufaq  Digest  August 2014 contains different social instructive and moral stories, interesting novels, Spiritual Treatment, selected Urdu poetry, useful Islamic articles and much more in Urdu language. Click on the below mentioned links to read online and also download full version of Naye Ufaq digest for the month of August 2014 in Pdf format for offline reading.

36 MB

Pakeeza Digest August 2014

Pakeeza August 2014
Monthly Pakeeza Digest August 2014 Pdf Free Download
Monthly Pakeeza Digest August 2014 edition online. Monthly Urdu women magazine Pakeeza digest for the month of August 2014 contains social romantic and moral stories, interesting novels, serial novels, useful articles health and beauty tips in Urdu language. Visit the below mentioned links to read online and also download full version of Pakeeza digest for the month of August 2014 in Pdf format.

41 MB
Download
or
53 MB
Download

Aanchal Digest August 2014

Aanchal Digest August 2014
Aanchal Digest August 2014 pdf Free Download
Aanchal Digest August 2014 edition online. Monthly Aanchal is a most popular Urdu magazine for women contains social romantic stories, interesting novels, beautiful Urdu poetry, Beauty tips, health tips and useful articles covering women issues. Visit the following links to read online and also download Aanchal Digest August 2014 in Pdf format for offline reading.

41 MB
or
54 MB
Download

Sindbad Jahazi in Urdu by Muhammad Saleem ur Rehman

Sindbad Jahazi by Muhammad Saleem ur Rehman

Sindabad jahazi PDF book composed by Muhammad Saleem ur Rehman . This story book is a Urdu dialect which deciphered from the saying well known story the Voyages and goes of sindbad the mariner. This is an astonishing and an eminent story of the voyages and goes of Sindbad the mariner who was the trader of Baghdad. holds a urdu endeavor story of sindbad for kids.this book has the span of 3.43 mb and posted into urdu children books. Free download or read online from below links.

OR

ایک پردیسی کی عید

ایک پردیسی کی چاند رات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی روزوں کے بیچ سیتی تھیں
کس محبت سے عید کے کپڑے
دل دھڑکتا تھا آخری روزے
جب بچھڑتی تھی ہم سے افطاری
چھت پہ مسجد کی بعد از مغرب
بادلوں کی اندھیر نگری میں
چاند مل کے تلاش کرتے تھے
شب گزرتی تھی جاگتے سوتے
صبح ہوتی تھی کس قدر روشن
چہرے کھلتے گلاب ہوں جیسے
گلیاں رنگوں کی کہکشاں جیسی
جذبے ایسے کہ شہد سے خالص
ملنا اپنے پرائے لوگوں سے
سر پہ ماں کا شفیق سایہ بھی
ماں کے ہاتھوں کو چوم کر عابی
اُس کے ہاتھوں کا وہ بنا میٹھا
جس سے ممتا کا رس ٹپکتا تھا
کس محبت سے ہم وہ کھاتے تھے
قد میں ابو سے گو میں اونچا تھا
پھر بھی عیدی مجھے وہ دیتے تھے
اپنی عیدی کے ٹکڑے کرکے میں
بہنوں بھائیوں میں بانٹ دیتا تھا
یار لوگوں کی ٹولیاں اپنی
جن سے سجتا تھا عید کا میلہ
ُتو کھلائے تو میں کھلاؤں گا
ایسے کھاتے تھے ہم بھی سوغاتیں
وقت پنچھی بلا کا ظالم ہے
پر لگا کے اُڑا وہ لمحوں میں
دانہ اپنے نصیب کا عابی
ایسا رب نے بکھیر کر پھینکا
جس کو چنتے پرائے دیسوں میں
برف اُتری ہے آج بالوں میں
دور گاؤں میں چاند اُترا ہے
لوگ کہتے ہیں عید آئی ہے
باسی کھانا میں کھا کے لیٹا ہوں
میلے تکیے پہ سر ٹکائے ہوں
نیند آنکھوں سے دور بیٹھی ہے
کل کے برتن بھی میں نے دھونے ہیں
ایک جوڑا خرید لایا تھا
پہن لوں گا سویرے گر جاگا
ماں کے میٹھے کی آج بھی خوشبو
میرے کمرے میں چار سو پھیلی
مجھ سے کہتی ہے لوٹ آ پگلے
چھوڑ دے یہ نصیب کے جھگڑے
دانہ بندے کا پیچھا کرتا ہے
تیری گلیاں تجھے بلاتی ہیں
تیری عیدی سنبھال رکھی ہے
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
تیرے کپڑے تیار لٹکے ہیں
......................
عابی مکھنوی 


tags: aik pardesi ki eid ,chand raat, ,urdu shairi, poetry, aabi makhavi , eidi, 

Khatarnak Dushman By Ibne Safi Free Download



خطرناک دشمن

Khatarnak Dushman  by Ibne Safi

Free download or read online complete Urdu novel Khatarnak Dushman (The Dangerous Enemy) by Ibne Safi . Ibne Safi (1928-1980) is the pseudonym of Asrar Ahmad, the top of the line and most famous creator of riddle and investigator books in the historical backdrop of the Indian Subcontinent's Urdu writing. His introductory works go again to the early 1940s, when he composed from India. After the parcel in 1947, he relocated to Pakistan, and penned his later books there. So solid was Ibne Safi's effect on the Subcontinent's abstract scene that his books were interpreted into a few local dialects. It was not bizarre for Safi's books to be sold at bootleg market costs in Pakistan and India, where they were initially distributed consistently.


OR


Araish Mehfil Ba Tasveeraat (Qissa Hatim Tai)


Araish Mehfil Ba Tasveeraat (Qissa Hatim Tai)


Araish Mehfil Ba Tasveeraat (Qissa hatim Tai) Urdu moral Stories for kids book download free in PDF arrange and composed in Urdu dialect. A old book publish in 1921 ,Hatim is influential, Brave, Generous and thoughtful. He helps everybody. Do you know who he is? Did he is a beast, or did his is a creature? His name is Hatim Tai. Hatim is not a titan or beast, he is the human, yet amid their crusades he confronts this kind of manifestations. Off and on again he meets with a creation which is half lady and half fish. Hatim looks a beast with nine hands, nine feet nine mouths and a flam of flame is turning out from his mouth. He additionally fined a creature with eight feet and seven heads. He meets with numerous devout senior citizens, who awards him breads for his craving and thirst. Hatem likewise confronts pixies and enchantment amid his missions.Download or read Online pdf file from below links.


OR

Qissa Hatim Tai Urdu By Haider Bakhsh Haidri


قصہ حاتم طائی


Qissa Hatim Tai Urdu By Ali Asad

Qissa Hatim Tai Urdu moral novel for kids book download free in PDF arrange and composed in Urdu dialect. Its creator name Haider Bakhsh Haidri. This is the eminent stories of the Hatim Tai ventures. This is a fascinating and great story of Hatim Tai. it is great good stories for children and other who adoration to peruse Hatim Tai entombing stories. Hatim is influential, Brave, Generous and thoughtful. He helps everybody. He is a brave and brave. He helps individuals to Eliminates their sufferings. He offers his hamburger to the Tiger. He spares lives of infants wolves. He has safeguarded deer from the paws of the wolf. Individuals and creature take profits of his compassion and empathy. He puts his life in a threat to disentangle hard of a Syrian ruler Munir. He makes seven adventures to fathom the seven inquiries of Princess Hussain Bano and bear different varieties of troubles and danger. Hatim faces interesting occasions and eminent circumstances amid his seven ventures. Hatim Al-Taeei (likewise Hatemtai i.e. Hatim of the Tayy tribe), formally Hatem ibn Abdellah ibn Sa'ad at-Ta'iy was a renowned pre Islamic( (Jahiliyyah) Arabian writer and the father of the Sahaba Adi ibn Hatim and Safana bint Hatem. He was a Christian Arab, and had a place with the Ta'i Arabian tribe. Stories about his amazing liberality have made him a symbol to Arabs up till the present day, as in the notorious expression "a larger number of liberal than Hatem".



OR

Falasteen Written By Almas MA Free Download

فلسطين‎

Falasteen Written By Almas MA

Falasteen Urdu novel composed by Almas(m.a). The journalist incorporated the history and story of falastinian who are battling difficult to get their country free from Israel and this battle proceeded for quite a while. Palestine  is a geographic area in Western Asia between the Mediterranean Sea and the Jordan River. It is in some cases considered to incorporate abutting regions. The name was utilized by Ancient Greek journalists, and was later utilized for the Roman territory Syria Palaestina, the Byzantine Palaestina Prima and the Umayyad and Abbasid area of Jund Filastin. The locale is otherwise called the Land of Israel Eretz-Yisra'el), the Holy Land, the Southern Levant, Cisjordan, and generally has been known by different names including Canaan, Southern Syria and Jerusalem.  Click underneath specified connection and download or read online free PDF book from the below links.


OR


Hassas Idaray written by Syed Ahmad Irshad Trimizi



Hassas Idaray

An alternate intriguing book about undercover work "Hassas Idaray" and find the shrouded truths about Pakistan's mystery administrations and governmental issues. Hassas Idaray Urdu book is really the Urdu adaptation of Mr. Irshad Tirmizi's book "Profiles of Intelligence". Hassas Idaray book is an extremely intriguing and may be an extraordinary Urdu book about Pakistan's ISI on the grounds that the writer of this book Mr. Irshad Tirmizi is a resigned Brigadier and previous Directorate General of ISI. In this book he has composed different occasions since Pakistan started to exist. He has likewise uncovered numerous different occasions that are currently the parts of history. The creator expressed a few stories of the counter insights of ISI in Pakistan. Mr. Tirmizi has likewise scrutinized the CIA and US in this Urdu book. The writer has additionally composed the story of Islamic unrest of Iran, the Lebia, Israel, India, United States of America, Russia. He has likewise examined the negative part of America in Pak-French kinship and diverse assentions between the two nations. He has likewise composed a story of French negotiator who was included in undercover work of Kahuta Research Center without the consent of France only for CIA.Free download or read online from below links.


OR

Truth Of This World By Harun Yahya

Monday, July 28, 2014

Truth Of This World By Harun Yahya
Truth of This World By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download And Read Online Books
Truth Of This World By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download. Here you can find many books free download. Harun Yahya's Orignal Name is Adnan Oktar. He is a Turkish well Known an Islamic creationist. Thank you for visiting  urdunovelist.blogspot.com. Click on the following links to free download Truth Of This World By Harun Yahya in Pdf format.


72 MB
Or

Stories For Thinking Children By Harun Yahya

Stories For Thinking Children By Harun Yahya
Stories For Thinking Children By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download And Read Online Books
Stories For Thinking Children By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download. Here you can find many books free download. Harun Yahya's Orignal Name is Adnan Oktar. He is a Turkish well Known an Islamic creationist. Thank you for visiting urdunovelist.blogspot.com. Click on the following links to free download Stories For Thinking Children By Harun Yahya in Pdf format.


27 MB
Or

Naqsha e Takhleeq (Atlas Of Creation) By Harun Yahya

Naqsha e Takhleeq Atlas Of Creation By Harun Yahya
Atlas Of Creation By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download And Read Online Books
Naqsha e Takhleeq (Atlas Of Creation) By Harun Yahya In Urdu Pdf Book Free Download. Here you can find many books free download. Harun Yahya's Orignal Name is Adnan Oktar. He is a Turkish well Known an Islamic creationist. Thank you for visiting urdunovelist.blogspot.com. Click on the following links to free download Naqsha e Takhleeq (Atlas Of Creation) By Harun Yahya in Pdf format.


76 MB
Or

علامہ پروفیسر طاہر القادری کا توہین رسالت پر موقف

Saturday, July 26, 2014