Khuda Aur Mohabbat Novel PDF by Hashim Nadeem

Monday, February 28, 2011


Hashim Nadeem Novels in PDF


خدا اور محبت



ہاشم ندیم

Khuda aur Mohabbat Novel



Free Download Urdu Novel or read online Storybook Khuda aur Mohabbat written by Hashim Nadeem Novel.The adventure revolves around the ages old battle amid religious credo (Khuda) and animal affections (Mohabbat). Belonging to the society elites, an adolescent business alum Hammad who does not even apperceive the basics of the adoration accidentally saw Iman, babe of Maulvi Aleem, Who teaches Quran to the accouchement of the vicinity. Now available in PDF format for offline reading.

Khuda Aur Mohabbat Novel

Download

OR

Read Online

Teray Naam Ka Guldan By Khalil Naz

Wednesday, February 23, 2011

Teray Naam Ka Guldan
By
Khalil Naz

Urdu Poetry Books Download

Saturday, February 19, 2011


To download Urdu Poetry Books click Here

urdu poetry books. free download books of wasi shah, munir niazi, parveen shakir, nasir kazmi, bashir badar, khalil naz, Ahmed faraz, sagar suddique, Faiz Ahmed faiz, Perveen Shakir, Amjad islam Amjad, wasif ali wasif, yasmeen Habeeb, Mohsin Naqvi, Tanveer Abaas Naqvi, Fakhra Batool, Noshi gillani, john Ailia, Ahmed Nadeem Qasmi, Munir Niazi, John Elia, Sahir Ludyanvi, Farhat Abbas Shah and bait bazi books free download. huge collection of urdu graphical poetry is also available
Urdu poetry wallpapers and urdu unicode poetry
  
click Here for urdu poetry

Raymond devis, Truth and lies

Wednesday, February 16, 2011

Raymond devis, Truth and lies
Jhoot ore Haqiqat
Saif ullah khalid
Roznama Ummat Karachi

aik tha badshah

Monday, February 14, 2011


aik tha badshah
story of a king like pakistan

The emerging union of Pakistan, Iran and Afghanistan

Saturday, February 12, 2011



The Emerging Union of Pakistan, Iran and Afghanistan
by
General Mirza Aslam baig

کشمیر میں برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بدعہدی




کشمیر میں برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بدعہدی
Kashmir main baritish viceroy lord Mountbatten ke bad-ehdi
written by
Rana Abdul Baqi
Published in monthly Mirrat ul Arifeen international

and naya kashmir (new kashmir)
by Ahmed Faraz

جمالِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Thursday, February 10, 2011




جمالِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Jamal e Muhammad (SAW)
By
Khalid awan


میلاد مصطفی اور امنِ عالمِ اسلام




میلاد مصطفی اور امنِ عالمِ اسلام

Milaad e mustafa ore Aman e Alim e Islam
by
Mufti Muhammad Hashim

موسمِ سرما کی شدت اور بھارتی فوج کا ظلم




Mosam e sarma ke shidat ore bharti fouj ka zulm
موسمِ سرما کی شدت اور بھارتی فوج کا ظلم
کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو گئ
Kashmirion ke zindagi ajeeran ho gae

By
Irshad ahmed arshad

Pakistan Arab mumalik se aik qadam agay

Tuesday, February 8, 2011


امریکی تاریخ کا مشہور ترین انکار


امریکی تاریخ کا مشہور ترین (انکار).
دسمبر ۱۹۵۵ کی ایک سرد شام کو دِن بھر کی پُر مشقت اور  تھکا دینے والے سلائی کڑھائی کے کام سے فراغت پا کر روزا پارکس نامی ایک سیاہ فام عورت، اپنےدستی تھیلے کو مضبوطی سے سینے سے چمٹائے اور اُس سے گرمی کا احساس پاتے ہوئے سڑک پر جا رہی تھی۔

دائیں بائیں دیکھ کر احتیاط سے سڑک عبور کر تے ہوئے وہ اُس بس سٹاپ پر جا کر کھڑی ہوگئی جہاں سے اُس کے گھر کی طرف جانے والی بس کو گزرنا تھا۔
تقریبا دس منٹ تک بس کا انتظار کرتے ہوئے روزا پارکس کے ذہن میں وہ افسوس ناک غیر انسانی مناظر گھوم گئے جو اُن دنوں امریکہ میں عام دیکھنے کو ملتے تھے، اور وہ تھے کسی بھی سیاہ فام کو اُسکی نشست سے اُٹھا دینا تاکہ وہاں پر ایک سفید فام بیٹھ سکے۔
یہ رویہ بھائی چارے کے جذبات یا مہذب معاشرے کی نفی تو کہاں محسوس ہوتا، اُلٹا امریکی قانون سیاہ فاموں کو اِس بات سے سختی سے منع کرتا تھا کہ وہ کسی سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں قطعی نہیں بیٹھ سکتے۔


معاملہ صرف یہاں تک ہی محدود نہیں تھا، اگر کوئی سیاہ فام بزرگ عورت کسی نوجوان سفید فام کے کھڑے ہونے کی صورت میں بیٹھی پائی جاتی تو اُس بزرگ اور بوڑھی عورت پر جُرمانہ کیا جاتا تھا۔
جی ہاں، یہ اُسی زمانے کی بات ہے جب دُکانوں یا کھانے کے ریستورانوں کے دروازوں پر فخر سے ایسی تختی لٹکائی جاتی تھی جِس پر لکھا ہوتا کہ یہاں بِلیوں، کتوں اور سیاہ فاموں کا داخلہ منع ہے۔
نسل پرستی پر مبنی یہ رویئے روزا پارکس کو غمگین اور افسُردہ کیئے رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتی رہتی کہ کب تک ہم سیاہ فاموں کے ساتھ یہ امتیازی اور کمتر سلوک جاری رہے گا؟ کب تک سیاہ فاموں کو تو قطاروں کے آخر میں رکھا جائے گا مگر سفید فاموں کے جانوروں کو بھی برابری کے حقوق دیئے جائیں گے؟ اِنہی سوچوں میں گُم روزا پارکس اپنے سینے میں درد چُھپائے بس کے آنے پر اُس میں سوار ہو گئی۔


 
بس میں دائیں بائیں دیکھتے ہوئے روزا کو ایک خالی نشست نظر آگئ، بس کے انتظار میں کھڑے شل ہوئی ٹانگوں کے ساتھ وہ نشست پر بیٹھ گئی، دستی تھیلے کو اُس نے مزید بھیچتے ہوئے سینے سے لگا لیا۔ اپنی سوچوں میں گُم وہ سڑک کو دیکھنے لگ گئی جسے بس گویا کھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف دوڑ رہی تھی۔


کُچھ ہی دیر بعد اگلا سٹاپ آ گیا جہاں سے بس میں مزید لوگ سوار ہو ئے اور بس بھر گئی۔
بس میں سوار ہونے والا ایک نوجوان سفید فام آہستگی سے اُس کرسی کی طرف بڑھا جہاں روزا پارکس بیٹھی ہوئی تھی۔ سفید فام اِس انتظار میں تھا کہ روزا اُس کیلئے نشست چھوڑے گی مگر آج معاملہ اُلٹا ہو گیا تھا، روزا نے سفید فام کو اُچٹی سی نگاہ سے دیکھا تو سہی مگر اُس کیلئے نشست خالی نہ کی اور ایک بار پھر اپنی نظریں باہر کی طرف سڑک پر ٹِکا دیں۔ سفید فام کے چہرے پر توہین کا احساس نمایاں تھا۔
یکا یک ہی بس میں سوار ہر مسافر کا رویہ معاندانہ ہو گیا، لوگ طنز سے بھی بڑھ کر  روزا کو گالی گلوچ  تک کرنے پر اُتر آئے تھے اور اُسے فورا اُس سفید فام کیلئے نشست خالی کرنے کیلئے کہہ رہے تھے۔
لیکن روزا اپنے موقف پر قائم خاموشی سے اپنی نشست پر براجمان تھی۔ بس کا ڈرائیور ایک سیاہ فام عورت کی اِس قانون شکنی کی جراءت اور سفید فام کی توہین پر یوں خاموش نہیں رہ سکتا تھا، اُس نے بس کا رُخ پولیس سٹیشن کی طرف موڑ دیا تاکہ پولیس اِس سیاہ فام عورت کو ایک معزز سفیدفام کی توہین کرنے کی جراءت کا مزا چکھا سکے۔


اور حقیقت میں ایسا ہی ہوا، پولیس نے روزا پارکس گرفتار کر کے تحقیق کی اور بعد میں  اُسکا جرم ثابت ہونے پر اُسے ۱۵ ڈالر جرمانے کی سزا سُنائی گئی، تاکہ اُسکی سزا دوسروں کیلئے ایک مثال بن جائے اور آئندہ کوئی ایسی جراءت نہ کرے۔


بات تو چھوٹی سی تھی مگر امریکا کی سر زمین پر ایک چنگاری بن کر گری۔ مُلک بھر میں بسنے والے تمام سیاہ فام  روزا پارکس کے ساتھ پیش آنے والے اِس ناروا سلوک پر آگ بگولہ ہو گئے اور ایک تحریک چل پڑی کہ وہ نقل و حمل کے تمام وسائل کے خلاف اُس وقت تک احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کریں گے جب تک امریکی حکومت اُن کو تمام تر انسانی حقوق دینے پر آمادہ نہیں ہوتی اور اُنکے ساتھ مہذب معاملے کا وعدہ نہیں کر لیا جاتا۔
یہ بائیکاٹ اپنی تمام تر ثابت قدمی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک چلا، سیاہ فاموں نے ۳۸۱ دنوں تک احتجاج کیا اور امریکی حکومت کو اپنے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔
روزا پارکس کی فتح ہوئی اور عدالت نے مُلک میں نہ صرف نسلی امتیاز کے اِس  قانون کو بلکہ اِس جیسے کئی امتیازی  رواجوں کو فوری طور پر ختم کردیا۔  


اور اِس واقعہ کے ۴۶ برس بعد مؤرخہ ۲۷  اکتوبر  ۲۰۰۱ کو، امریکی تاریخ میں پیش آنے والے اِس تاریخی واقعے کی یاد ایک بار پھر اُس وقت تازہ ہو گئی جب مِیشی گن کے شہر ڈیئر بورن میں واقع ھنری فورڈ عجائب گھر کے منیجر سٹیو ھامپ نے اُس پرانی بس کو خریدنے کا فیصلہ کیا۔
جی ہاں 1940 ماڈل کی یہ بس جس میں روزا پارکس کے ساتھ وہ سانحہ پیش آیا تھا، ایسا سانحہ جس نے امریکا میں انسانی حقوق کی تحریک کو جنم دیا اور پھر سیاہ فاموں کو بھی برابر کے حقوق حاصل ہو گئے۔



اور یہ پرانی بس چار لاکھ بیانوے ہزار ڈالر میں خرید کی گئی۔
سن ۱۹۹۴ میں جب روزا پارکس کی عمر ۸۰ سال تھی, اُس پر لکھی گئی ایک کتاب بعنوان خاموش طاقت میں وہ اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اُس دن مجھے اپنے ماں باپ اور اجداد بہت یاد آئے تھے، اُس دن میں نے اللہ کے حضور گڑگڑا کر التجاء کی تھی کہ یا رب تو ہی ہے جو کمزوروں کو طاقت سے نواز سکتا ہے۔


اور پھر ۲۴ اکتوبر ۲۰۰۵ کو ۹۲ سال کی عمر میں وفات پانے والی اِس بہادر خاتون کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے ہزاروں سوگوار جمع ہوئے۔
وہ با ہمت اور بہادر خاتون، جِس نے انسانی حقوق کی برابری کیلئے علم بُلند کیا تھا۔
روزا پارکس کے جنازے میں کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی اور ہزاروں لوگ ڈھاریں مار مار کر رو رہے تھے، امریکا کا جھنڈا سر نگوں ہو کر اِس عظیم خاتون کو سلامِ عقیدت پیش کر رہا تھا۔
روزا پارکس کی میت کو وفات سے دفنانے تک امریکی کانگریس کی ایک عمارت میں رکھا گیا، تعظیم کا یہ اعزاز سربراہانِ مملکت یا اہم ترین شخصیات کو دیا جاتا ہے۔
۱۸۵۲ سے لیکر آج تک صرف ۳۰ ایسے لوگ گُزرے ہیں جنکو یہ اعزاز حاصل ہوا جبکہ اِن تمام ۳۰ اشخاص میں سے روزا پارکس واحد خاتون ہیں۔
روزا پارکس اِس دنیا سے رُخصت ہوئیں تو اپنے سینے پر کئی تمغے سجائے ہوئے تھیں، 1996 میں اُنہیں آزادی کے صدارتی تمغہ سے نوازا گیا جبکہ 1999 میں اُنہیں کانگریس سے گولڈ میڈل عطا کیا گیا۔

روزا  کیلئے اِن سب اعزازات سے بڑھ کر  اُنکا اپنا ایک لفظ تھا اور وہ تھا (نہیں)، یہ نہیں امریکا کی تاریخ کا سب سے طاقتور انکار تھا جِس کی ہاں میں ہاں مِلانے میں اُس کی تمام سیاہ فام نسل نے ساتھ دیا تھا۔
***
خُدا نے آج تک  اُس  قوم  کی  حالت  نہیں  بدلی
نہ ہو خیال جِس کو خود اپنی حالت کے بدلنے کا

Tehreek e azadi e kashmir ka tabnak Mustaqbil





Tehreek e azadi e kashmir ka tabnak Mustaqbil
By
Tariq ismail sagar
Qomi manzar nama

forex trading

kya ye azadi e kashmir ka referendum nhe

kashmirion ke qurbanian
kya ye azadi e kashmir ka referendum nhe

kashmir hamara hai

Saturday, February 5, 2011

Kashmir hamara hai
By
Khalil Naz

کشمیریوں سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ

Thursday, February 3, 2011


ہر جابر وقت سمجھتا ہے ' محکم ہے میری تدبیر بہت
پھر وقت اسے سمجھاتا ہے ' تھی کند تیری شمشیر بہت
دشمن سے کہو اپنا ترکش ' چاہے تو دبارہ بھر لائے
اس سمت پزاروں سینے ہیں ' اُس سمت اگر ہیں تیر بہت



امت مسلمہ گرداب میں پھنی ہے خون مسلم ارزاں ہے ۔۔ چاہے فلسطین ہو ' بوسنیا ہو ' شیشان ' سوات ' دیر ہو یا شمالی علاقہ جات ۔ تسلسل کے ساتھ ایک چیز نظر آتی ہے مسمانوں کا خون بہانہ مغربی اقوام نے وطیرہ بنا لیا ہے ۔ اور دوسری طرف مسلم حکمرانوں کے کا سہ لیس ہر وقت ان کے آگے یس مین کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔۔ ہر حکم ماننا اور اپنی گردنیں جھکا کر رکھنا فرض عین بن چکا ہے ۔ 
 
آزادی ہر انسان کا فطری حق ہے اس سے یہ حق چھین لینا ۔۔فطرت سے بغاوت اور دنیا پر اپنی ظاقت سے اجاداری قائم کرنے کے مترادف ہے ۔۔۔ 
 
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اپنے جائز حق کے لیے اٹھنے والی تحریکوں کو کچل دیا جاتا ہے ۔۔۔ اور اس پر اپنے آپ کو انصاف اور امن کا علمبردار کہنے میں بھی کوئی عار نہ جھجھک محسوس کی جاتی ۔۔۔
دنیا میں اٹھنے والے آزادی کی تحریکوں میں سے ایک تحریک کشمیر کی بھی ہے ۔۔۔۔ جسے غاضب بھارت اور برظانوی سامراج کی ملی بھگت سے ابھی تک انصاف حاصل نہ ہو سکا ۔۔۔

قائد اعظم نے کہا کہ 
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔۔۔
ظالم ' قابض بھارت نے کہا کہ ۔۔
کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ اور اندرونی معاملہ ہے ۔۔

پاکستان کے حکمرانوں نے کہا کہ 

کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ہم اس کی وجہ سے اپنے تعلقات بھارت سے خراب نہیں کر سکتے ۔۔
کشمیر کی کہانی سب کو معلوم ہے ۔۔۔ اس لیے اس تفصیل میں جانے کے بجائے کہ کس سازش کے تحت اسے پاکستان سے الگ کر کے بھارت کا حصہ بنایا گیا اس پر بات کرنا ضروری ہے کہ بھارت کا کیا مفاد اس سے وابستہ تھا ۔۔
تقسیم بند کے وقت کشمیر میں پچاسی فیصد مسلمان تھے ۔۔ ہندو راجہ نے اس خطے کو ٧۵ لاکھ میں خریدا اور بھارت کے ساتھ الحاق کیا ۔۔ 
بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتاریں ۔۔ لیکن جب ہر محاذ پر سکشت واضح نظر آنے لگی تو ۔۔۔ مسکین بھارت اسے اقوام متحدہ میں لے گیا ۔۔۔ اور جنگ کا نام لے کر اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل کی ۔۔۔ جس طرح آج اسرائیل سے فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر یک طرفہ ظلم کو جنگ بندی کہہ کر رکوانے کہ کوشش کی گئی ۔۔۔۔ حیف ہے ۔۔۔۔
اور قرار دار پاس کی گئی کہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کے مستقبل کا فیصلہ کیا جانا چاہییے ۔۔۔ بھارت اس سے بھی مکر گیا اور اب شرائن بورڈ تنازعہ اور سازش کے ذریعے کشمیریوں سے ان کا حق رائے دہی چھینے کے لیے ہندوؤں کی کثیر تعداد کو بھارت کے مختلف حصوں سے لا کر کشمیر میں بسایا جارہا ہے ۔
پاکستان سے سب سے بڑی غلطی جنگ بندی قبول کرنے پر ہوئی ۔۔۔۔ 
لیکن بعد میں مذاکرات اور اقوم متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے پاکستان کی طرف سے کافی زور لگایا گیا کہ کشمیر کو پورا حق دیا جائۓ کہ وہ جس کہ ساتھ چاہے الحاق کرے ۔۔۔
اس ضمن میں کشمیری عوام کو پاکستانی عوام اور حکومت کی سفارتی اور اخلاقی حمایت حاصل رہی ۔۔۔
لیکن مشرف دور میں جب کہ یقین تھا کہ ایک فوجی جرنیل بھارت سے نرم رویہ اختیار کرنے کے بجائے اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے گا ۔۔ 
لیکن افسوس مشرف دور میں جتنا کشمیر کاز کو نقصان پہنچا شاید پاکستان کی تاریخ میں ایسا ہوا ہو ۔۔۔
مشرف نے آل پاٹیز کو تقسیم کرنے میں رول ادا کیا جس سے آج تحریک آزادی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ۔۔
حکومت پاکستان کی پالیسی نے پاکستان کی پوزیشن کو کمزور کر کے رکھ دیا ۔۔
بھارت کشمیروں کو دبانے کے لیے ۔۔ اسرائیل کی مدد سے کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے ۔۔ ٨۴٠٠مربع میل کے چھوٹے سے رقبے پر ٧ لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج مسلط ہے ۔۔ جو ظلم و جبر کی تاریخ رقم کر رہی ہے ۔۔ لاکھوں جوان ' بوڑھے شہید ہوئے ہزاروں خواتین عصمت دری کا شکار ہوئیں ۔
عقوبت خانوں میں ہزاروں افراد تشدد سے پاگل ہو چکے ہیں ۔۔۔ اس کے علاوہ 
بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں ڈیم تعمیر کئے ۔۔ جس سے پاکستان میں خشک سالی اور جب چاہے سیلاب کی کیفیت پیدا کر دینا مقصود ہے ۔۔ 
نا صرف پاکستان کے معاشی قتل کے منصوبے پر کاربند ہے بلکہ ۔۔۔۔ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کا بھی گھناؤنا منصوبہ جاری ہے ۔۔۔
اس کے باوجود نا عوام میں کوئی ہلچل ہے نہ حکمرانوں میں غیرت ۔۔
کشمیریوں سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ تو یاد رہا ۔۔۔ کلمے سے جڑنے کے بعد اس کے تقاضے کیا ہیں وہ نہ یاد رہ سکے ۔۔۔
یوم ہکجہتئ کشمیر کے دن چھٹی منانا تو یاد رہا ۔۔
یکجہتی ۔۔۔۔ کے بعد اس ایک حصے کا درد پورے جسم میں محسوس ہو نا یاد نہ رہا ۔۔۔۔
ایسا کب تک ہوتا رہے گا ؟؟؟
ظلم کب تک جاری رہے گا ۔۔۔۔؟؟
وہی سوال ۔۔۔۔۔۔۔ہم کیا کریں ؟؟؟
ہزاروں میل دور سے ایک بیٹی کی پکار پر چلے آنے والا محمد بن قاسم کیا امت کا بیٹا نہیں تھا 
کیا طارق بن زیاد کا نام لینا اور جھوم کر اش اش کرنا ۔۔۔بس۔ ہماری ذمہ داری ہے ؟؟؟
شاید نہیں ۔۔۔۔!!!
تو ہم کب جاگیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہر محاذ پر بے عزت ہوہے والے کب تک یکطرفہ 
امن کی آشا اڑانے رہیں گے ؟۔۔ 

کب تک رہے گی تیری بگڑی ہوئی تقدیر ۔۔۔۔ اے وادئ کشمیر

یاران جہان کہتے ہیں کشمیر ہے جنت۔۔۔۔
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔۔۔
(علامہ اقبال)


بھارت تیرے ہاتھوں میں وہ لکیر نہیں ہے۔۔۔
کشمیر تیرے باپ کی جاگیر نہیں ہے


Youm e yakjehti e kashmir
5 February
 

India's cold start:military Doctrine






India's cold start: military Doctrine
compiled by
Rana Ammar Farooque

fashisht, shidat pasand فاشسٹ، شدت پسند

Tuesday, February 1, 2011


fashisht, shidat pasand
فاشسٹ، شدت پسند
by orya maqbool jan

Share This Book

 

Most Reading

Available Books

Blogroll